اسلام آباد (آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اب باتوں کا نہیں، عمل کا وقت ہے،لوچستان کی تعمیر و ترقی ملک سے غربت و افلاس کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے لیے بے حد ضروری ہے،گوادرسمیت پورے بلوچستان کو ترقی کے سفر میں دیگر علاقوں کے ہم پلہ کرنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیرا عظم نے بلوچستان اور گوادر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ گوادر بندرگاہ اپنے محل وقوع کے علاوہ دفاعی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے عالمی تجارت کے لیے انتہائی موزوں اور اہم ہے۔ ہمیں اس بندرگاہ کیراستے ملک کے بالائی اور شمالی علاقہ جات سے درآمدی سامان کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے گوادر سے ملک کے بالائی علاقوں تک سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا بہترین اور فعال نیٹ ورک کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمیں شبانہ روز محنت سے اس ضمن میں ہونے والی مجرمانہ کوتاہیوں کا ازالہ کرنا ہے، اور آگے بڑھنا ہے۔وزیر اعظم نے برآمدی شعبے کی ترقی اور عوام، خصوصا گوادر کے لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے لیے گوادر میں چینی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری بلوچستان اورسیکرٹری منصوبہ بندی کو چینی کمپنیوں کے وفد سے مشاورت کے ساتھ خوراک، زراعت اور پیٹروکیمیکلز میں سرمایہ کاری کے لیے قابل عمل پلان بنانے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم کو چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری وزارت بحری امور، سیکرٹری ریلوے، چئیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور چئیرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی پاکستان (COPHC) نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔چئیرمین نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (NHA) نے وزیر اعظم کو CPEC کے مشرقی اور مغربی روٹس کے زریعے گوادر کی ملک کے بالائی اور شمالی علاقوں تک رسائی سے متعلق وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔وزیر اعظم نے تجارتی سامان کی ترسیل کو یقینی بنانے لے لیے NHA، وزارت بحری امور اور وزارت منصوبہ بندی کو عید کے فورا بعدمشترکہ جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سیکرٹری وزارت بحری امور نے وزیر اعظم کو بتایا کہ گوادر پورٹ پر بریک واٹر پراجیکٹ (Concession Agreements) کے تحت تعمیر ہونا تھا۔ اس کے لیے 445 ملین ڈالر کی گرانٹ اور 484 ملین ڈالر کا قرض چینی حکومت نے فراہم کر رکھا ہے، لیکن یہ منصوبہ تعطل کا شکار رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس مجرمانہ غفلت پر برہمی کا اظہار کیا اور چئیرمین وزیر اعظم معائنہ کمیشن کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس پیشہ وارانہ غفلت کی تحقیق کر کے ایک ہفتے میں جامع رپورٹ پیش کریں۔چئیرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی پاکستان (COPHC) نے وزیر اعظم کو بتایا کہ 1.2 ملین گیلن روزانہ کی استعداد والا پلانٹ پاکستان جلد پہنچ جا? گا اور اس سال کے آخر تک پیداوار شروع کر دے گا۔چیف سیکرٹری بلوچستان نے گوادر کے لیے شمسی توانائی کے منصوبے پر وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ گوادر شہر کے 35,500 گھرانوں میں سے 31,000 آن گرڈ جبکہ 4500 گھرانے آف گرڈ ہیں۔ آن گرڈ گھرانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئٹہ الیکٹریک سپلائی کمپنی (QESCO) اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) بنیادوں پر منی سولر پارک لگایا جا رہا ہے، جس کے لیے NEPRA پاور پر چیز ایگریمنٹ (Power Purchase Agreement) جاری کرے گا۔ تاہم آف گرڈ گھرانوں کے لیے 1.8 ارب روپے کی لاگت سے 3KW والے سولر ہوم سٹیشنز لگا? جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کوسارا عمل شفاف ٹینڈرنگ کے ذریعے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نیہدایت کی کہ عوام کی سہولت کو یقینی بنانے کے لییکم از کم تین سال کے لیے آفٹر سیل سروس (After Sale Service) مہیا کرنا سولرسسٹم مہیا کرنے والی کمپنی کی ذمہ داریوں میں شامل کیا جائے۔
Load/Hide Comments
Recent Posts
- Hello world!
- 75واں جشن آزادی روایتی جوش و خروش اور ملی جذبہ کیساتھ آج اتوار کو منایا جائیگا
- آرمی چیف کی رائل ملٹری اکیڈمی لندن پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شرکت ، پاکستان کیلئے بڑا اعزاز
- ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائیگی، شہباز شریف اور آصف زرداری میں اتفاق
- وزیراعظم کامن ویلتھ گیمز کے میڈل ونرز کے ساتھ ملاقات کرینگے




